آصف ثاقب ۔۔۔ فلک پہ ہے نظارا روشنی کا

فلک پہ ہے نظارا روشنی کا
چمک اُٹھا ستارا روشنی کا

لہو اپنا رواں اس میں کیا ہے
تعلّق ہے ہمارا روشنی کا

بڑھایا ہم نے دل کا نور ایسا
اُدھر پانی اتارا روشنی کا

جھلکتی ہے تو چھپ جاتی ہے پہلے
یہ کیسا ہے اشارہ روشنی کا
نگاہوں میں اجالا کر رہا ہے
بہت اونچا منارہ روشنی کا

پڑھوں تو نظم بن جاتا ہے ثاقب
ہر آنسو ہے شمارہ روشنی کا

Related posts

Leave a Comment